FACTBOXURDU.COM

اشتہار لگائیں | آج کا اخبار

تازہ ترین خبریں
تازہ خبریں لوڈ ہو رہی ہیں...

ہمارے ساتھ شامل ہوں

پاکستان

شادی کی خوشی ماتم میں بدل گئی، ہوائی فائرنگ سے باپ جاں بحق

نوشہرہ میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ کا افسوسناک واقعہ، پولیس موقع پر موجود

نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں شادی کی خوشیاں اس وقت قیامت میں بدل گئیں جب بیٹے کی جانب سے کی گئی ہوائی فائرنگ اس کے اپنے والد کی جان لے گئی۔ افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو اجاڑ دیا بلکہ ایک بار پھر شادی بیاہ کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ جیسے خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رجحان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ نوشہرہ کے ایک مقامی علاقے میں پیش آیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ خوشی کے اس موقع پر رسم و رواج کے نام پر ہوائی فائرنگ کی جا رہی تھی کہ اسی دوران ایک گولی سیدھی دولہے کے والد کو جا لگی، جو شدید زخمی ہو گئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

 واقعے کی تفصیلات 
پولیس کے مطابق ملزم، جو مقتول کا بیٹا بتایا جا رہا ہے، شادی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کر رہا تھا۔ اچانک فائر ہونے والی گولی سیدھی اس کے والد کو لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ موقع پر موجود افراد نے فوری طور پر انہیں طبی امداد دینے کی کوشش کی، مگر زخم جان لیوا ثابت ہوئے۔
واقعے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر پشاور کے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم انہیں مزید علاج کے لیے زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔
لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم مکمل کر کے میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔

 پولیس کارروائی اور قانونی پہلو
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی تحویل میں لے لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ حادثاتی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
پولیس نے شہریوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ سے مکمل طور پر گریز کیا جائے کیونکہ یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔
ہوائی فائرنگ: خوشی یا خطرناک روایت؟
پاکستان کے مختلف علاقوں میں شادی کی تقریبات، جلسوں اور خوشی کے دیگر مواقع پر ہوائی فائرنگ کو طاقت اور خوشی کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ روایت کئی خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق فضا میں چلائی گئی گولی زمین پر واپس آ کر کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل اس رجحان کے خلاف آگاہی مہم چلا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود ایسے واقعات میں کمی نہیں آ رہی۔

 ماضی کے افسوسناک واقعات
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں شادی کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
27 دسمبر 2025 کو قبائلی ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ سے دولہا اسد جاں بحق ہو گیا تھا۔ دولہا کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا تھا۔ اس واقعے میں بھی دو افراد زخمی ہوئے تھے اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔
ان واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کسی صورت خوشی کا اظہار نہیں بلکہ ایک سنگین جرم اور سماجی مسئلہ ہے۔

 علاقہ مکینوں اور لواحقین کا ردعمل
نوشہرہ کے واقعے پر علاقہ مکینوں اور مقتول کے اہل خانہ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ایک لمحے کی لاپرواہی نے پورے خاندان کو عمر بھر کا غم دے دیا۔
مقامی لوگوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے خلاف سخت قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

 قانون اور شہری ذمہ داری
قانونی ماہرین کے مطابق ہوائی فائرنگ ایک قابلِ سزا جرم ہے، جس پر نہ صرف بھاری جرمانہ بلکہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود لوگ قانون کو نظرانداز کر کے اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوشی کے مواقع پر ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو دوسروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔