کابل – افغانستان کے معروف اسپنر کرکٹر راشد خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی ذاتی سکیورٹی اور کابل میں زندگی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ عالمی کرکٹ میں اپنی مہارت اور کامیابیوں کے لیے جانے جانے والے راشد خان نے سابق انگلش کپتان کیون پیٹرسن کے ساتھ گفتگو میں واضح کیا کہ وہ کابل کی سڑکوں پر عام شہریوں کی طرح آزادانہ طور پر نہیں جا سکتے۔
راشد خان نے بتایا کہ ان کی حفاظت کے لیے وہ ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ممکنہ خطرات اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتہائی ضروری ہے۔
سابق انگلش کپتان کیون پیٹرسن نے ایک انٹرویو میں راشد خان سے پوچھا کہ کیا وہ کابل کی گلیوں میں بلا خوف آزادانہ گھوم سکتے ہیں۔ راشد خان نے واضح طور پر کہا کہ نہیں، افغانستان کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ مشہور کرکٹرز کو بھی اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔
Rashid Khan Uses A Bulletproof Car When Visiting Afghanistan! 😮 pic.twitter.com/53BZkyWunp
— The Switch | Kevin Pietersen (@kptheswitch) December 22, 2025
راشد خان نے بتایا کہ کابل میں عوامی مقامات پر بلا روک ٹوک گھومنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہر لمحہ انہیں سیکیورٹی کے اقدامات پر دھیان دینا پڑتا ہے اور یہ حقیقت ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ اپنی زندگی کو انہی حالات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راشد خان نہ صرف افغانستان میں بلکہ عالمی کرکٹ میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں موجودہ سیکیورٹی کے مسائل عالمی کرکٹ کے بڑے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔
راشد خان کی گفتگو میں یہ بھی جھلکتا ہے کہ وہ اس صورتحال کو تسلیم کر چکے ہیں اور اپنی زندگی کے معمولات کو اسی مطابق ڈھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلٹ پروف گاڑی نہ صرف ان کی ذاتی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ان کے روزانہ کے کام اور سفر بھی محفوظ رہتے ہیں۔
اس انٹرویو کے بعد کرکٹ حلقوں میں یہ موضوع بحث کا حصہ بن چکا ہے کہ عالمی کرکٹرز کو بھی ملک کی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔



















