انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں زمبابوے کے خلاف میچ کے بعد پاکستان پر سلو رن چیز کے الزامات، نیٹ رن ریٹ حکمت عملی اور آئی سی سی قوانین کے تحت ممکنہ کارروائی کی مکمل تفصیل۔
ذرائع کے مطابق انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے دوران پاکستان کی نوجوان ٹیم ایک غیر متوقع تنازعے کی زد میں آ گئی ہے، جہاں سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں قومی انڈر 19 ٹیم پر مبینہ طور پر ’’چالاک حکمت عملی‘‘ اختیار کرنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان نے گروپ اسٹیج کے ایک اہم میچ میں میزبان زمبابوے کے خلاف نسبتاً آہستہ رفتار سے ہدف حاصل کیا۔
ہرارے میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کے کپتان فرحان یوسف نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ زمبابوے کی ٹیم، اوپنر ناتھانیئل ہلابانگانا کی شاندار نصف سنچری کے باوجود، پوری اننگز میں تسلسل برقرار نہ رکھ سکی اور 35.5 اوورز میں 128 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
جواب میں پاکستان نے 129 رنز کا ہدف محض دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور میچ 8 وکٹ سے جیت لیا، تاہم جیت کے باوجود اصل بحث اس بات پر شروع ہوئی کہ پاکستانی ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں رفتار کیوں کم رکھی۔

سلو رن چیز پر الزامات کیسے لگے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ میچ کے ابتدائی اوورز میں پاکستان نے جارحانہ بیٹنگ کی اور 14 اوورز تک 84 رنز بنا لیے تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ ہدف بہت جلد حاصل کر لیا جائے گا۔ اس مرحلے پر اسکاٹ لینڈ بھی پوائنٹس ٹیبل کے مطابق سپر سکس مرحلے میں کوالیفائی کر رہا تھا۔
تاہم اس کے بعد پاکستان نے اچانک بیٹنگ کی رفتار کم کر دی۔ 16ویں سے 25ویں اوور تک قومی ٹیم نے صرف 27 رنز بنائے جبکہ تقریباً 50 گیندیں بغیر کسی رن کے گزریں۔ اس دوران 89 گیندوں تک کوئی چوکا یا چھکا بھی نہیں لگایا گیا، حالانکہ مطلوبہ رن ریٹ مکمل طور پر کنٹرول میں تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے شائقین کرکٹ کو سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا کہ آیا یہ سب محض اتفاق تھا یا ایک سوچا سمجھا فیصلہ۔
نیٹ رن ریٹ کی پیچیدہ حکمت عملی
کرکٹ قوانین کے مطابق انڈر 19 ورلڈ کپ میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ سپر سکس مرحلے میں وہی نیٹ رن ریٹ آگے منتقل ہوتا ہے جو اُن ٹیموں کے خلاف حاصل کیا گیا ہو جو خود بھی سپر سکس کے لیے کوالیفائی کریں۔
اگر پاکستان 129 رنز کا ہدف 25.2 اوورز سے پہلے حاصل کر لیتا تو زمبابوے کے بجائے اسکاٹ لینڈ سپر سکس میں جگہ بنا لیتا اور پاکستان کو اسکاٹ لینڈ کے خلاف نیٹ رن ریٹ آگے لے جانا پڑتا، جو نسبتاً کم فائدہ مند تھا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے زمبابوے کے خلاف 26.2 اوورز میں ہدف مکمل کر کے زمبابوے کو سپر سکس میں پہنچنے کا موقع دیا، جبکہ اسکاٹ لینڈ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ اس طرح پاکستان کا بہتر نیٹ رن ریٹ زمبابوے کے خلاف سپر سکس میں منتقل ہو گیا۔
جرمانے کا خدشہ کیوں؟
آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.11 کے تحت اگر کسی ٹیم پر یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے جان بوجھ کر نیٹ رن ریٹ یا نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے تو ٹیم کے کپتان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا دیگر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے معاملے میں یہ ذمہ داری کپتان فرحان یوسف پر عائد ہو سکتی ہے، تاہم اس آرٹیکل میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق کرپشن یا میچ فکسنگ سے نہیں بلکہ غیر مناسب حکمت عملی سے ہے۔
اینڈی فلاور کا مؤقف
زمبابوے کے سابق کرکٹر اینڈی فلاور نے اس معاملے پر ای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی بظاہر قوانین کے دائرے میں تھی۔ ان کے مطابق ٹیم نے پہلے فتح یقینی بنائی اور اس کے بعد حالات کے مطابق بیٹنگ کی رفتار کو کنٹرول کیا۔
اینڈی فلاور کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ٹیمیں اکثر حساب کتاب کے تحت فیصلے کرتی ہیں، اور اگر قوانین کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو تو اسے جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آئی سی سی کا ردعمل
خبر فائل کیے جانے تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم کرکٹ حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا مستقبل میں اس طرح کی حکمت عملیوں پر قوانین مزید سخت کیے جائیں گے یا نہیں۔
نتیجہ
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ جدید کرکٹ میں نیٹ رن ریٹ اور ٹورنامنٹ فارمیٹس کس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم نے میدان میں کامیابی حاصل کی، مگر اس کے ساتھ ایک ایسا سوال بھی جنم لے آیا جو آنے والے میچز اور خاص طور پر بھارت کے خلاف مقابلے سے قبل دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
اب سب کی نظریں آئی سی سی کے ممکنہ فیصلے پر ہیں کہ آیا اس معاملے کو نظر انداز کیا جائے گا یا کسی قسم کی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



















