اسلام آباد وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد کے کچہری علاقے میں پیش آنے والے خودکش حملے کی سخت تنقید کی اور اسے پوری قوم کے لیے ایک جاگنے کی ضرورت والی ہنگامی صورت حال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ صرف سرحد یا کسی مخصوص خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی کی خاطر جاری جنگ کا حصہ ہے، جس میں پاک فوج اپنی جان کی قربانی دے کر عوام کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں کابل کے حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ کابل پاکستان میں دہشت گردی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر یہ حملے اسلام آباد تک پہنچ کر ایک واضح پیغام دے رہے ہیں، جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلام آباد کے جی-الیون کچہری کے قریب حملے میں 12 افراد شہید اور 25 سے زائد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور تقریباً 10 سے 15 منٹ تک کچہری کے اندر موجود رہا، جس دوران پولیس کی موجودگی کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ موقع سے حملہ آور کا سر بھی برآمد ہوا، جس سے شناخت ممکن ہو گئی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت اولین ترجیح ہے اور اس حملے میں شامل دیگر عناصر کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز وانا میں بھی گاڑی سوار خودکش حملہ آور نے انٹری پوائنٹ پر دھماکہ کیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ وانا حملے میں بھی افغانستان کی ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور وہاں سے مسلسل کمیونیکیشن رہی۔
یہ حملے پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات اور سرحدی علاقوں کی حساس صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق یہ واقعات قوم کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تحفظ کی ذمہ داری صرف پاک فوج کی نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔
خواجہ آصف اور محسن نقوی کے بیانات میں یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ پاکستان میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اسلام آباد اور وانا کے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے شہروں تک پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر حکومت اور سیکیورٹی ادارے مزید مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔



















